حضرت سہل بن حنیف کی مرویات۔
قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي الرَّبَابُ وَقَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ قَالَتْ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُ مَرَرْنَا بِسَيْلٍ فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ مِنْهُ فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذُ قُلْتُ يَا سَيِّدِي وَالرُّقَى صَالِحَةٌ قَالَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا فِي نَفْسٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ لَدْغَةٍ قَالَ عَفَّانُ النَّظْرَةُ وَاللَّدْغَةُ وَالْحُمَةُ
حضرت سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی علاقے میں پانی کی ندی پر سے ہمارا گذر ہوا میں اس میں غسل کرنے لگا جب نکلا تو بخار چڑھ چکا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو فرمایا ابوثابت سے کہو کہ اپنے اوپر تعوذ پڑھ کر پھونک لیں میں نے عرض کیا آقا جھاڑ پھونک بھی ہوسکتا ہے فرمایا جھاڑ پھونک صرف نظر بد سانپ کے ڈسنے یابچھو کے ڈسنے کی صورت میں ہوسکتا ہے۔
