مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1705

حضرت معن بن یزید سلمی کی حدیثیں ۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ ذِرَاعٍ أَنَّهُ سَمِعَ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ أَوْ أَبَا مَعْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ فَإِذَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَلْيُؤْذِنُونِي قَالَ فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ فَأَتَيْنَاهُ فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مُقْتَصَرٌ وَلَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ وَنَحْوًا مِنْ هَذَا فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا فَقُلْنَا خَصَّنَا اللَّهُ بِهِ أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ وَأَنْ فَعَلَ وَفَعَلَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ فَكَلَّمْنَاهُ فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ وَإِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَأَمَرَنَا وَكَلَّمَنَا وَعَلَّمَنَا

حضرت معن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد میں سب لوگ جمع ہو جاؤ اور جب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے اطلاع کرنا چنانچہ سب سے پہلے ہم لوگ آئے تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم باوقار طریقے سے چلتے ہوئے تشریف لائے اور آ کر رونق افروز ہوگئے اسی اثناء میں ہم میں سے ایک آدمی تک بندی کے ساتھ کلام کرتے ہوئے کہنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ کرکھڑے ہوگئے۔ ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ اللہ نے ہمیں سب سے پہلے حاضر ہونے کی خصوصیت عطا فرمائی تھی اور فلاں شخص نے یہ حرکت کردی پھر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو بنو فلاں کی مسجد میں پایا ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے کے لئے کوشش کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ چلتے ہوئے آئے اور پہلے والی نشست پر آکربیٹھ گئے اور فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں وہ جسے چاہتا ہے اپنے سامنے کر لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے پیچھے کردیتا ہے اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر ہمیں کچھ احکامات بتائے اور کچھ باتیں تعلیم فرمائیں۔

یہ حدیث شیئر کریں