مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1702

حضرت حبہ اور سواء کی حدیثیں ۔

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَدْعَاءِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَاكَ قَالَ سِوَايَ سِوَايَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا سَمِعْتُهُ

حضرت عبداللہ بن جدعاء کہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ایک آدمی سفارش کی وجہ سے بنوتمیم کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے ہم نے پوچھا یا رسول اللہ یہ شفاعت آپ کی شفاعت کے علاوہ ہوگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میرے علاوہ ہوگی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے انہوں نے کہا جی ہاں۔

یہ حدیث شیئر کریں