حضرت رافع بن خدیج کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى قَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ عَلَيْهِ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ قَالَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَسَعَوْا لَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوْ قَالَ لِهَذِهِ النَّعَمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کل ہمارا دشمن جانوروں سے آمنا سامنا ہوگیا جبکہ ہمارے پاس تو کوئی چھری نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دانت اور ناخن کے علاوہ جو چیز جانور کا خون بہادے اور اس پر اللہ کا نام بھی لیا گیا ہو تما سے کھاسکتے ہو اور اس کی وجہ بھی بتادوں کہ دانت توہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت کے طوپر کچھ اونٹ ملے جن میں سے ایک اونٹ بدک گیا لوگوں نے اسے قابو کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے تنگ آکر ایک آدمی نے اسے تاک کرتیر مارا اسے قابو میں کرلیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جانور بھی بعض اوقات وحشی ہوجاتے ہیں جیسے وحشی جانور بپھر جاتے ہیں جب تم کسی جانور کو مغلوب ہوجاؤ تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔
