حضرت کعب بن مالک انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى بَنِي سَلِمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّاسُ فِي رَمَضَانَ إِذَا صَامَ الرَّجُلُ فَأَمْسَى فَنَامَ حَرُمَ عَلَيْهِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَالنِّسَاءُ حَتَّى يُفْطِرَ مِنْ الْغَدِ فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ سَهِرَ عِنْدَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَدْ نَامَتْ فَأَرَادَهَا فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ نِمْتُ قَالَ مَا نِمْتِ ثُمَّ وَقَعَ بِهَا وَصَنَعَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ مِثْلَ ذَلِكَ فَغَدَا عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء رمضان میں جب کوئی روزہ دار رات کو سوجاتا اس پر کھاناپینا اور بیوی کے قریب جانا اگلے دن افطار کرنے تک حرام ہوجاتا تھا ایک مرتبہ حضرت عمر رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دیر گذارنے کے بعد گھر واپس آئے تو دیکھا کہ ان کی اہلیہ سورہی ہیں انہوں نے ان سے اپنی خواہش پوری کرنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگیں کہ میں توسو گئی تھی حضرت عمر نے کہا کہاں سوئی تھی پھر ان سے اپنی خواہش پوری کی ادھر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ایساہی پیش آیا اگلے دن جب حضرت عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبردی اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اللہ جانتا ہے کہ تم اپنی جانوں سے خیانت کرچکے ہو سو اللہ تم پر متوجہ ہوا اور اس نے تمہیں معاف کردیا۔
