مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1582

حضرت عبداللہ بن رواحہ کی حدیثیں ۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ لَيْلًا فَتَعَجَّلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَإِذَا فِي بَيْتِهِ مِصْبَاحٌ وَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ شَيْءٌ فَأَخَذَ السَّيْفَ فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ إِلَيْكَ إِلَيْكَ عَنِّي فُلَانَةُ تُمَشِّطُنِي فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَنَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا

حضرت عبداللہ بن رواحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت وہ سفر سے واپس آئے اور اپنی بیوی کی طرف روانہ ہوگئے گھر پہنچے تو وہاں چراغ جل رہا تھا اور ان کی بیوی کے پاس کوئی تھا انہوں نے اپنی تلوار اٹھالی یہ دیکھ کر ان کی بیوی کہنے لگی کہ رکو یہ تو فلاں عورت ہے جو میرا بناؤ سنگھار کر رہی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ کی اطلاع دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو اچانک بلا اطلاع کسی شخص کو اپنے گھر واپس آنے سے منع کردیا۔

یہ حدیث شیئر کریں