حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا فِي الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ قَالَ كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ وَلِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ
حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں صرف ایک مؤذن تھا جو تمام نمازوں اور جمعہ وغیرہ میں اذان بھی دیتا تھا اور اقامت بھی وہی کہتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر رونق افروز ہوجاتے تو حضرت بلال اذان دیتے تھے اور جب آپ منبر سے نیچے اترتے تو وہی اقامت کہتے تھے حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر کے زمانے تک ایسا ہوتارہا یہاں تک کہ حضرت عثمان کا دور آ گیا۔
