مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1549

حضرت عامر بن ربیعہ کی حدیثیں ۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ انْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يُرِيدَانِ الْغُسْلَ قَالَ فَانْطَلَقَا يَلْتَمِسَانِ الْخَمَرَ قَالَ فَوَضَعَ عَامِرٌ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ مِنْ صُوفٍ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي فَنَزَلَ الْمَاءَ يَغْتَسِلُ قَالَ فَسَمِعْتُ لَهُ فِي الْمَاءِ قَرْقَعَةً فَأَتَيْتُهُ فَنَادَيْتُهُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُجِبْنِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَجَاءَ يَمْشِي فَخَاضَ الْمَاءَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا قَالَ فَقَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ أَوْ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيُبَرِّكْهُ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ

عبداللہ بن عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عامر بن ربیعہ اور سہل بن حنیف غسل کے ارادے سے نکلے وہ دونوں کسی آڑ کی تلاش میں تھے حضرت عامر نے اپنے جسم سے اون کا بنا ہوا جبہ اتارا میری نظر ان پر پڑی تو وہ پانی میں اترچکے تھے اور غسل کررہے تھے اچانک میں نے پانی میں ان کے پکارنے کی آواز سنی میں فورا وہاں پہنچا تو انہیں تین مرتبہ آواز دی لیکن انہوں نے ایک مرتبہ بھی جواب نہ دیا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور اس واقعہ کی خبردی نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے اس جگہ پر تشریف لائے اور پانی میں غوطہ لگایا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی اب تک اپنی نظروں میں پھرتی محسوس ہوتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اے اللہ اس کی گرمی سردی اور بیماری کو دور فرما وہ اس وقت کھڑے ہو گئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی جان میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے تعجب میں مبتلا کردے تو اس کے لئے برکت کی دعا کرے کیونکہ نظر لگ جانا برحق ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں