مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1209

حضرت سبرہ بن معبد کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعُسْفَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَوْ مَالِكُ بْنُ سُرَاقَةَ شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنَا تَعْلِيمَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنَا بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُنَّ قَدْ أَبَيْنَ إِلَّا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى قَالَ فَافْعَلُوا قَالَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي عَلَيَّ بُرْدٌ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ فَدَخَلْنَا عَلَى امْرَأَةٍ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى بُرْدِ صَاحِبِي فَتَرَاهُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِي وَتَنْظُرُ إِلَيَّ فَتَرَانِي أَشَبَّ مِنْهُ فَقَالَتْ بُرْدٌ مَكَانَ بُرْدٍ وَاخْتَارَتْنِي فَتَزَوَّجْتُهَا عَشْرًا بِبُرْدِي فَبِتُّ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ فَلْيُعْطِهَا مَا سَمَّى لَهَا وَلَا يَسْتَرْجِعْ مِمَّا أَعْطَاهَا شَيْئًا وَلْيُفَارِقْهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَهَا عَلَيْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے جب ہم لوگ مقام غسان میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اس پر حضرت سراقہ بن مالک نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں ان لوگوں کی طرح تعلیم دیجیے جو گویا آج ہی پیدا ہوئے ہوں یہ ہمارے اس عمرے کا حکم ہے یاہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ہمیشہ کا یہی حکم ہے۔ پھر جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں ایک وقت مقررہ کے علاوہ کسی اور صورت میں راضی ہی نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایسا ہی کرلو چنانچہ میں اور میرا ساتھی نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے اچھی معلوم ہوتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کرتی بالآخر کہنے لگی کہ چادر چادر کے بدلے میں ہوگی اور یہ کہہ کر اس نے مجھے پسند کرلیا اور میں نے اس سے اپنی چادر کے عوض دس دن کے لئے نکاح کرلیا۔ وہ رات میں نے اسی کے ساتھ گذاری جب صبح ہوئی تو مسجد کی طرف میں روانہ ہوا وہاں پہنچ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے تم میں جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ ایک متعین وقت کے لئے نکاح کیا ہے اسے چاہیے کہ اس نے جو چیز مقرر کی ہے وہ اسے دیدے اور اپنی دی ہوئی چیز کو اس سے واپس نہ مانگے اور خود اس سے علیحدگی اختیار کرلے کیونکہ اللہ نے اب اس کام کو قیامت تک کے لئے تم پر حرام قرار دیدیا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں