مسند احمد ۔ جلد ششم ۔ حدیث 1104

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ دُعِيَ لِامْرَأَةٍ بِالْمَدِينَةِ لَدَغَتْهَا حَيَّةٌ لَيَرْقِيَهَا فَأَبَى فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُ فَقَالَ عَمْرٌو يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَزْجُرُ عَنْ الرُّقَى فَقَالَ اقْرَأْهَا عَلَيَّ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ إِنَّمَا هِيَ مَوَاثِيقُ فَارْقِ بِهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک عورت کوسانپ نے ڈس لیا لوگوں نے عمرو بن حزم کو بلایا تاکہ اسے جھاڑ دیں لیکن انہوں نے انکار کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو عمرو کو بلایا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ جھاڑ پھونک سے منع فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنا منتر میرے سامنے پڑھو انہوں نے پڑھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں تو کوئی حرج نہیں تم ان سے جھاڑ پھونک کر سکتے ہو۔

یہ حدیث شیئر کریں