مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 2803

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْجَعَ النَّاسِ وَأَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ قَالَ فُزِّعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً قَالَ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَبَقَهُمْ وَهُوَ يَقُولُ لَمْ تُرَاعُوا قَالَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ فَجَعَلَ يَقُولُ لِلنَّاسِ لَمْ تُرَاعُوا قَالَ وَقَالَ إِنَّا وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ يَعْنِي الْفَرَسَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بے زین گھوڑے پر سوار ہیں ، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔

یہ حدیث شیئر کریں