مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 2758

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ فَقَالَ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشَاءَ الْآخِرَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ قَالَ أَنَسٌ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ وَرَفَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشاء کو نصف رات تک مؤخر کر دیا، اور فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سوگئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا، تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے اور انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ بلند کیا۔

یہ حدیث شیئر کریں