مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 2605

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو زخمی کر دے اور ان کے دانت توڑ دے، جب کہ وہ انہیں اپنے رب کی طرف بلا رہا ہو؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہو جائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں " ۔

یہ حدیث شیئر کریں