مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 2451

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَقَدْ دُعِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ قَالَ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمِ الْمِرَارِ وَهُوَ يَقُولُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ تَمْرٍ وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ أَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا فَمَا وَجَدَ لَهَا مَا يَفْتَكُّهَا بِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ وہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آئے تھے، اور میں نے ایک دن انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شام کو آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس غلے یا گندم کا ایک صاع بھی نہیں ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں ۔
اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس مدینہ منورہ میں گروی رکھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چند مہینوں کے لئے جو لئے تھے اور اسے چھڑانے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ نہ تھا۔

یہ حدیث شیئر کریں