حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ شَبَابٌ مِنْ الْأَنْصَارِ سَبْعِينَ رَجُلًا يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ قَالَ كَانُوا يَكُونُونَ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا أَمْسَوْا انْتَحَوْا نَاحِيَةً مِنْ الْمَدِينَةِ فَيَتَدَارَسُونَ وَيُصَلُّونَ يَحْسِبُ أَهْلُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْسِبُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ أَنَّهُمْ فِي أَهْلِيهِمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي وَجْهِ الصُّبْحِ اسْتَعْذَبُوا مِنْ الْمَاءِ وَاحْتَطَبُوا مِنْ الْحَطَبِ فَجَاءُوا بِهِ فَأَسْنَدُوهُ إِلَى حُجْرَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا فَأُصِيبُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتَلَتِهِمْ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ فِتْيَةٌ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے ستر جوان تھے جنہیں قراء کہا جاتا تھا، وہ مسجد میں ہوتے تھے، جب شام ہوتی تو مدینہ کے کسی کونے میں چلے جاتے، سبق پڑھتے اور نماز پڑھتے تھے، ان کے گھر والے سمجھتے کہ وہ مسجد میں ہیں اور مسجد والے یہ سمجھتے کہ وہ گھر میں ہیں ، صبح ہونے کے بعد وہ میٹھا پانی لاتے اور لکڑیاں کاٹتے اور انہیں لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس لٹکادیتے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو روانہ فرمایا اور وہ بئر معونہ کے موقع پر شہید ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ دن تک فجر کی نماز میں ان کے قاتلوں پر بددعاء فرماتے رہے تھے۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
