مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 2281

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنِّي لَأَسْعَى فِي الْغِلْمَانِ يَقُولُونَ جَاءَ مُحَمَّدٌ فَأَسْعَى فَلَا أَرَى شَيْئًا ثُمَّ يَقُولُونَ جَاءَ مُحَمَّدٌ فَأَسْعَى فَلَا أَرَى شَيْئًا قَالَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ فَكُنَّا فِي بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ بَعَثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لِيُؤْذِنَ بِهِمَا الْأَنْصَارَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا زُهَاءَ خَمْسِ مِائَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَيْهِمَا فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَخَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ حَتَّى إِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُيُوتِ يَتَرَاءَيْنَهُ يَقُلْنَ أَيُّهُمْ هُوَ أَيُّهُمْ هُوَ قَالَ فَمَا رَأَيْنَا مَنْظَرًا مُشْبِهًا بِهِ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا وَيَوْمَ قُبِضَ فَلَمْ أَرَ يَوْمَيْنِ مُشْبِهًا بِهِمَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بچوں کے ساتھ دوڑ رہا تھا، جب بچے یہ کہتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے تو میں اتنا تیز دوڑتا کہ کچھ نہ دیکھتا، دوبارہ بچے یہی جملے کہتے تو میں پھر اتنا تیز دوڑنے لگتا کہ کچھ نہ دیکھتا تھا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفیق محترم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، ہم اس وقت مدینہ کے کسی علاقے میں تھے، ہم نے ایک دیہاتی آدمی کو انصار کے پاس یہ خبر دے کر بھیجا، اور پانچ سو کے قریب انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے نکل پڑے، وہ لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ آپ دونوں حضرات امن و امان کے ساتھ مطاع بن کر داخل ہوجائیے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آگے آگے چلتے رہے اور سارے اہل مدینہ نکل آئے حتیٰ کہ خواتین بھی اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپس میں پوچھنے لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں ؟ ہم نے اس دن جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے یہ دن بھی دیکھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور وہ دن بھی دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے، ان دونوں دنوں جیسا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔

یہ حدیث شیئر کریں