مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1984

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي قَالَ فَقَالَ قُومُوا فَلِأُصَلِّي لَكُمْ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةً قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا قَالَ جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ قَالَ ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ قَالَتْ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ ثُمَّ قَالَ فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ قَالَ بَهْزٌ وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا بِهِ اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں میرے والد اور میری خالہ ام حرام کے علاوہ کوئی نہ تھا، نماز کا وقت نہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اٹھو میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی) راوی نے ثابت سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہاں کھڑا کیا تھا؟ انہوں نے کہا دائیں جانب، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اہل خانہ کے لئے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں مانگیں ، پھر میری والدہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے خادم انس کے لئے دعاء کر دیجئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر میرے لئے مانگی، اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما۔

یہ حدیث شیئر کریں