مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1294

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ عَمَّةَ أَنَسٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا إِلَى الْقَوْمِ الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْقِصَاصُ قَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكْسِرُ ثَنِيَّةَ فُلَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ قَالَ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلَانَةَ قَالَ فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا وَتَرَكُوا الْقِصَاصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ أَبَرَّهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر ان کے اہل خانہ نے لڑکی والوں سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، انس بن نضر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا فلاں (میری بہن) کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا انس! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہی کا ہے، وہ کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، فلاں عورت کا دانت نہیں توڑا جائے گا، اسی اثناء میں وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کر دیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھالیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں