مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1234

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَخِرَبٌ وَقُبُورٌ مِنْ قُبُورِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَامِنُونِي فَقَالُوا لَا نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَبِالْحَرْثِ فَأُفْسِدَ وَبِالْقُبُورِ فَنُبِشَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ در اصل بنو نجار کی تھی، ایک درخت، کھیت اور مشرکین کی چند قبریں ہوا کرتی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار سے فرمایا کہ میرے ساتھ اس کی قیمت طے کر لو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر درختوں کو کاٹ دیا گیا، کھیت اجاڑ دیا گیا، اور قبروں کو اکھاڑ دیا گیا، اور مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔

یہ حدیث شیئر کریں