حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا انْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ نَادَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا انْهَزَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَى قَالَ فَأَتَاهَا أَبُو طَلْحَةَ وَمَعَهَا مِعْوَلٌ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ بَعَجْتُهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْظُرْ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أُسْلِمَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي سَائِلُكَ فَقَالَ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ قَالَ قُلْتُ مَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ حنین کے دن مسلمان ابتدائی طور پر شکست خوردہ ہو کر بھاگنے لگے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پکار کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ ہمیں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ، انہیں قتل کروا دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ کافی ہے، تھوڑی دیر بعد حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاتھ میں ایک کدال تھی، انہوں نے پوچھا ام سلیم! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، یہ سن کر وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دیکھیں تو سہی کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہیں ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
