مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1031

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ وَيَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الْمَعْنَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ كُلُّ قَرِيبِ الدَّارِ مِنْ الْمَسْجِدِ وَبَقِيَ مَنْ كَانَ أَهْلُهُ نَائِيَ الدَّارِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَصَغُرَ أَنْ يَبْسُطَ أَكُفَّهُ فِيهِ قَالَ فَضَمَّ أَصَابِعَهُ قَالَ فَتَوَضَّأَ بَقِيَّتُهُمْ قَالَ حُمَيْدٌ وَسُئِلَ أَنَسٌ كَمْ كَانُوا قَالَ ثَمَانِينَ أَوْ زِيَادَةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کے لئے اذان ہوئی، مسجد کے قریب جتنے لوگوں کے گھر تھے وہ سب آگئے، اور دور والے نہ آسکے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی ہتھیلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکلا کہ سب نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسی یا کچھ زیادہ۔

یہ حدیث شیئر کریں