مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1024

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَكَتَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا نَكُونُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَ الْإِبِلِ حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَكُنَّا مَعَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں ، اس پر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بخدا! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں ، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔

یہ حدیث شیئر کریں