مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 922

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ اونٹ والے اپنے اوپر فخر کرنے لگے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سکون اور وقار بکریوں والوں میں ہوتا ہے اور فخر و تکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جس وقت مبعوث کیا گیا اس وقت وہ اپنے اہل خانہ کے لئے بکریاں چراتے تھے، اور مجھے بھی جس وقت مبعوث کیا گیا تو میں بھی آپنے اہل خانہ کے لئے مقامِ جیاد پر بکریاں چرایا کرتا تھا۔

یہ حدیث شیئر کریں