حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات
وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى قَالَ وَوَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَقَالَ لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَاةٌ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ أَفْضَلُ يَعْنِي مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
اور سوائے تین مسجدوں کے یعنی مجسد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔
اور مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو رخصت کرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ تمہارا کہاں کے سفر کا ارادہ ہے؟ اس نے بتایا کہ میرا ارادہ بیت المقدس کا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مسجد میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب " مسجد حرام کو نکال کر " باقی تمام مساجد کے مقابلے میں ایک ہزار درجہ افضل ہے۔
