مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 641

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ بِهِ فَقَالَ لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَرَدْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ وَعَنْ أَشْيَاءَ مِنْ الْأَشْرِبَةِ وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ مُحَدِّثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ الْأَشْرِبَةِ أَوْ الْأَنْبِذَةِ فَاشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا

عمرو بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس سے گذرے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمن! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جارہا ہوں ، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا کہ اے ابوسعید! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کا گوشت کھانے، کچھ مشروبات اور قبرستان جانے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے، لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا میں نے اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت (تین دن سے زیادہ) رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا اور ذخیرہ کرسکتے ہو کیونکہ اللہ نے وسعت پیدا کر دی ہے، نیز میں نے تمہیں کچھ مشروبات اور نبیذوں سے منع کیا تھا، اب انہیں پی سکتے ہو، لیکن (یاد رہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم وہاں جاؤ تو کوئی بے ہودہ بات نہ کرنا۔

یہ حدیث شیئر کریں