مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 257

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ بَايَعْتَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَجَاءَ أَهْلُ الشَّامِ فَسَاقُونِي إِلَى جَيْشِ بْنِ دَلَحَةَ فَبَايَعْتُهُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِهَا حَمَّادٌ صَوْتَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَنَامَ نَوْمًا وَلَا يُصْبِحَ صَبَاحًا وَلَا يُمْسِيَ مَسَاءً إِلَّا وَعَلَيْهِ أَمِيرٌ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُبَايِعَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ

بشر بن حرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ایک امیر پر اتفاق رائے ہونے سے قبل ہی دو امیروں کی بیعت کر لی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی، پھر اہل شام آکر مجھے ابن دلحہ کے لشکر کے پاس کھینچ کرلے گئے چنانچہ میں نے مجبوراً اس سے بھی بیعت کرلی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا مجھے بھی اسی کا خطرہ ہے (دو مرتبہ فرمایا) پھر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عبدالرحمن! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ جو شخص اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ کوئی نیند ایسی نہ سوئے، کوئی صبح اور شام ایسی نہ کرے جس میں اس پر کوئی حکمران نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! سنا تو ہے لیکن میں اس چیز کو ناپسند سمجھتا ہوں کہ کسی ایک امیر پر لوگوں کے اتفاق رائے ہونے سے قبل ہی دو امیروں کی بیعت کرلوں

یہ حدیث شیئر کریں