صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْسَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَقَالَ انْطَلِقُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ وَقَالَ فَانْطَلَقُوا بِهِ فَلَمَّا مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ وَاشْتَدَّ فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ فِي يَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ قَالَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ
گذشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر منہ پھیر لیا انہوں نے دائیں جانب سے آ کر یہی کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا پھر بائیں جانب سے آ کر یہی عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعراض فرمایا لیکن جب چوتھی مرتبہ بھی انہوں نے اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جا کر ان پر حد رجم جاری کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انہیں لے گئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ جب انہیں پتھر لگے تو وہ بھاگ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا؟
