مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 2479

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَوْقٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ طَوْقٌ مِنْ نَارٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ قَالَتْ قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ قُرْطَانِ مِنْ نَارٍ قَالَ وَكَانَ عَلَيْهَا سِوَارٌ مِنْ ذَهَبٍ فَرَمَتْ بِهِ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ إِحْدَانَا إِذَا لَمْ تَزَّيَّنْ لِزَوْجِهَا صَلِفَتْ عِنْدَهُ قَالَ فَقَالَ مَا يَمْنَعُ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تُصَفِّرُهُمَا بِالزَّعْفَرَانِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سونے کا ہار ہے فرمایا یہ جہنم کی آگ کا طوق ہے اس نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سونے کے دو کنگن ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آگ کے کنگن ہیں اس نے کہایہ سونے کی دو بالیاں ہیں فرمایا آگ کی بالیاں ہیں اس خاتون نے سونے کے کنگن پہن رکھے تھے اس نے وہ اتار کر پھینک دئیے اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے جو عورت اپنے شوہر کے سامنے زیب و زینت اختیار نہ کرے وہ اس کی نگاہوں میں بے وقعت ہو جاتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اس بات سے کس نے روکا ہے کہ چاندی کی بالیاں بنا کر ان پر زعفران کا رنگ پھیر دو۔

یہ حدیث شیئر کریں