مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 2301

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ الْمَعْنَى عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثْقَلُ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَيُؤَذِّنَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزُمُ الْحَطَبِ إِلَى قَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافقین پر نماز عشاء اور نماز فجر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہے لیکن اگر انہیں ان دونوں نمازوں کا ثواب پتہ چل جائے تو وہ ضرور ان نمازوں میں شرکت کریں اگرچہ گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے، میرا دل چاہتا ہے مؤذن کواذان کا حکم دوں اور ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کر دے، پھر اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے جاؤں جن کے ہمراہ لکڑی کے گٹھے ہوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں۔

یہ حدیث شیئر کریں