مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 2104

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ بِالسُّوقِ فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَعَابَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ وَانْتَهَرَهُمْ فَقَالَ لَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ لَسَمِعْتُهُ وَتُوُفِّيَتْ امْرَأَةٌ مِنْ كَنَائِنِ مَرْوَانَ فَشَهِدَهَا مَرْوَانُ فَأَمَرَ بِالنِّسَاءِ اللَّاتِي يَبْكِينَ فَضُرِبْنَ فَقَالَ لَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ دَعْهُنَّ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ فَإِنَّهُ مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا وَأَنَا مَعَهُ وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَحِمَهُ اللَّهُ فَانْتَهَرَ عُمَرُ اللَّاتِي يَبْكِينَ مَعَ الْجِنَازَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَإِنَّ النَّفْسَ مُصَابَةٌ وَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَإِنَّ الْعَهْدَ لَحَدِيثٌ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ

محمد بن عمرو رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلمہ بن ازرق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں وہاں سے جنازہ گذرا جس کے پیچھے رونے کی آوازیں آرہی تھیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے معیوب قرار دے کر انہیں ڈانٹا سلمہ بن ازرق کہنے لگے آپ اس طرح نہ کہیں میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ گواہی دیتاہوں کہ ایک مرتبہ مروان کے اہل خانہ میں سے کوئی عورت مرگئی عورتیں اکھٹی ہو کر اس پر رونے لگیں مروان کہنے لگا کہ عبد الملک جاؤ اور ان عورتوں کو رونے سے منع کروحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے خود سناکہ ابوعبد الملک رہنے دوایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے بھی ایک جنازہ گذرا تھا جس پر رویا جارہا تھا میں بھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے جنازے کے ساتھ رونے والی عورتوں کو ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب رہنے دو کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور زخم ابھی ہرا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا یہ روایت آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں اس پر وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں