مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 2052

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ قَوْلُهُ حِينَ دُعِيَ إِلَى آلِهَتِهِمْ إِنِّي سَقِيمٌ وَقَوْلُهُ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا وَقَوْلُهُ لِسَارَةَ إِنَّهَا أُخْتِي قَالَ وَدَخَلَ إِبْرَاهِيمُ قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنْ الْمُلُوكِ أَوْ جَبَّارٌ مِنْ الْجَبَابِرَةِ فَقِيلَ دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ اللَّيْلَةَ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْمَلِكُ أَوْ الْجَبَّارُ مَنْ هَذِهِ مَعَكَ قَالَ أُخْتِي قَالَ أَرْسِلْ بِهَا قَالَ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ وَقَالَ لَهَا لَا تُكَذِّبِي قَوْلِي فَإِنِّي قَدْ أَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ قَالَ فَلَمَّا دَخَلَتْ إِلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا قَالَ فَأَقْبَلَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ قَالَ فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اللَّهُمَّ إِنَّهُ إِنْ يَمُتْ يُقَلْ هِيَ قَتَلَتْهُ قَالَ فَأُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ قَالَ فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اللَّهُمَّ إِنَّهُ إِنْ يَمُتْ يُقَلْ هِيَ قَتَلَتْهُ قَالَ فَأُرْسِلَ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَيَّ إِلَّا شَيْطَانًا ارْجِعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَأَعْطُوهَا هَاجَرَ قَالَ فَرَجَعَتْ فَقَالَتْ لِإِبْرَاهِيمَ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَدَّ كَيْدَ الْكَافِرِ وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے کبھی ایسی بات نہیں کہی جو حقیقت میں تو سچی اور بظاہر جھوٹ معلوم ہوتی ہو ہاں اس طرح کی تین باتیں کہی تھیں۔ پہلی دونوں باتیں تو یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میں بیمار ہوں اور یہ فرمایا تھا کہ یہ فعل (بت شکنی) بڑے بت کا ہے اور تیسری بات کی یہ صورت ہوئی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ علیہاالسلام کا ایک گاؤں سے گذر ہوا وہاں ایک ظالم بادشاہ موجود تھا بادشاہ سے کسی نے کہا کہ یہاں ایک شخص آیا ہے جس کے ساتھ ایک نہایت حسین عورت ہے بادشاہ نے ایک آدمی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیج کر دریافت کرایا کہ یہ عورت کون ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میری بہن ہے پھر حضرت سارہ علیہاالسلام کے پاس آکر فرمایا کہ روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی اور ایمان دار نہیں ہے اور اس ظالم نے مجھ سے تمہارے متعلق دریافت کیا تھا میں نے اس سے کہہ دیا کہ تم میری بہن ہولہٰذا تم میری تکذیب نہ کرنا۔
اس کے بعد بادشاہ نے حضرت سارہ علیہاالسلام کو بلوایا سارہ چلی گئیں بادشاہ غلط ارادے سے ان کی طرف بڑھا حضرت سارہ علیہاالسلام وضو کر کے نماز پڑھنے لگیں اور کہنے لگیں کہ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر کے علاوہ سب سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ فرما اس پر وہ زمین میں دھنس گیا حضرت سارہ علیہاالسلام نے دعاء کی کہ اے اللہ اگر یہ اس طرح مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ سارہ نے اسے قتل کیا ہے چنانچہ اللہ نے اسے چھوڑ دیا دوبارہ اس نے دست درازی کرنا چاہی لیکن پھر اسی طرح ہوا وہ زمین میں دھنسا اور رہا ہوا۔
تیسری یا چوتھی مرتبہ بادشاہ اپنے دربان سے کہنے لگا کہ تو میرے پاس آدمی کو نہیں لایا ہے بلکہ شیطان کو لایا ہے اسے ابراہیم کے پاس واپس بھیج دو یہ کہہ کر حضرت سارہ علیہاالسلام کو خدمت کے لئے ہاجرہ علیہاالسلام عطا فرمائی حضرت سارہ علیہا السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس واپس آگئیں اور کہا اللہ تعالیٰ نے کافر کی دست درازی سے مجھے محفوظ رکھا اور اس نے مجھے خدمت کے لئے ہاجرہ دی ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں