مسند احمد ۔ جلد چہارم ۔ حدیث 1459

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ أَوْ رَجُلًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَفَقْدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا مَاتَ فَقَالَ أَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ قَالُوا إِنَّهُ كَانَ لَيْلًا قَالَ فَقَالَ دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَدَلُّوهُ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام عورت یا مرد مسجد نبوی کی خدمت کرتا تھا (مسجد میں جھاڑو دے کر صفائی ستھرائی کا خیال رکھتا تھا) ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نظر نہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ توفوت ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ ایک عام آدمی تھا (اس لئے آپ کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتا دی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر اس کے لئے دعاء مغفرت کی

یہ حدیث شیئر کریں