حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَحْتَ جَنْبِهِ تَمْرَةً مِنْ اللَّيْلِ فَأَكَلَهَا فَلَمْ يَنَمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَقَالَ بَعْضُ نِسَائِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرِقْتَ الْبَارِحَةَ قَالَ إِنِّي وَجَدْتُ تَحْتَ جَنْبِي تَمْرَةً فَأَكَلْتُهَا وَكَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُ
حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا پھر رات کے آخری حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہونے لگے، جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ گھبرا گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ مجھے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور ملی تھی جسے میں نے کھا لیا تھا اب مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ صدقہ کی کھجور نہ ہو۔
