مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2267

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ صَائِمَةٌ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ فَقَالَ لَهَا أَصُمْتِ أَمْسِ فَقَالَتْ لَا قَالَ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا فَقَالَتْ لَا قَالَ فَأَفْطِرِي إِذًا قَالَ سَعِيدٌ وَوَافَقَنِي عَلَيْهِ مَطَرٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ام المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت روزے سے تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا آپ نے کل روزہ رکھا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا کل کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر روزہ ختم کردو۔

یہ حدیث شیئر کریں