مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2255

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْفَرَعِ فَقَالَ الْفَرَعُ حَقٌّ وَإِنْ تَرَكْتَهُ حَتَّى يَكُونَ شُغْزُبًّا ابْنَ مَخَاضٍ أَوْ ابْنَ لَبُونٍ فَتَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ تُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَبُكَّهُ يَلْصَقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ وَتَكْفَأَ إِنَاءَكَ وَتُولِيَ نَاقَتَكَ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے اونٹ کے پہلے بچے کی قربانی کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ برحق ہے لیکن اگر تم اسے جوان ہونے تک چھوڑ دو کہ وہ دو تین سال کا ہو جائے پھر تم اسے کسی کو فی سبیل اللہ سواری کے لئے دے دو یا بیواؤں کو دے دو تو یہ زیادہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم اسے ذبح کر کے اس کا گوشت اس کے بالوں کے ساتھ لگاؤ اپنا برتن الٹ دو اور اپنی اونٹنی کو پاگل کر دو۔

یہ حدیث شیئر کریں