مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2252

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالَا حَدَّثَنَا سَوَّارٌ أَبُو حَمْزَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرُوا أَبْنَاءَكُمْ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا لِعَشْرِ سِنِينَ وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ وَإِذَا أَنْكَحَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى شَيْءٍ مِنْ عَوْرَتِهِ فَإِنَّ مَا أَسْفَلَ مِنْ سُرَّتِهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مِنْ عَوْرَتِهِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچوں کی عمر جب سات سال ہو جائے تو انہیں نماز کا حکم دو دس سال کی عمر ہو جانے پر ترک صلوٰۃ کی صورت میں انہیں سزا دو اور سونے کے بستر الگ کردو اور جب تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام یا نوکر کا نکاح کردے تو اس کی شرمگاہ کی طرف ہرگز نہ دیکھے کیونکہ ناف کے نیچے سے گھٹنوں کا حصہ ستر ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں