مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2207

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت مہر، تحفہ یا ہدیہ کے بدلے نکاح کرے تو نکاح سے قبل ہونے کی صورت میں وہ اسی کی ملکیت ہو گا اور نکاح کا بندھن بندھ جانے کے بعد وہ اس کی ملکیت میں ہو گا جسے دیا گیا ہو اور کسی آدمی کا اکرام اس وجہ سے کرنا زیادہ حق بنتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے اس کا اکرام کیا جائے۔

یہ حدیث شیئر کریں