مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2205

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَزَعَمَ أَبُوهُ أَنَّهُ يَنْزِعُهُ مِنِّي قَالَ أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کا برتن تھا میری گود اس کا گہوارہ تھی اور میری چھاتی اس کے لئے سیرابی کا ذریعہ تھی لیکن اب اس کا باپ کہہ رہا ہے کہ وہ اسے مجھ سے چھین لے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تم کہیں اور شادی نہیں کرتیں اس پر تمہاراحق زیادہ ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں