مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2155

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بِهَا الَّذِينَ سَرَقَتْهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْمَرْأَةَ سَرَقَتْنَا قَالَ قَوْمُهَا فَنَحْنُ نَفْدِيهَا يَعْنِي أَهْلَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْطَعُوا يَدَهَا فَقَالُوا نَحْنُ نَفْدِيهَا بِخَمْسِ مِائَةِ دِينَارٍ قَالَ اقْطَعُوا يَدَهَا قَالَ فَقُطِعَتْ يَدُهَا الْيُمْنَى فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ أَنْتِ الْيَوْمَ مِنْ خَطِيئَتِكِ كَيَوْمِ وَلَدَتْكِ أُمُّكِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک عورت نے چوری کی جن لوگوں کے یہاں چوری ہوئی تھی وہ اس عورت کو پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! اس عورت نے ہمارے یہاں چوری کی ہے اس عورت کی قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم انہیں اس کا فدیہ دینے کے لئے تیار ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم اس کا فدیہ پچاس دینار دینے کو تیار ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دو چنانچہ اس کا داہنا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔
بعد میں وہ عورت کہنے لگی یا رسول اللہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تک اپنے گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو کہ گویا تمہاری ماں نے تمہیں آج ہی جنم دیا ہو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورت مائدہ کی یہ آیت نازل فرمائی جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں