مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2112

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ تَوْبَةَ بْنَ نَمِرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا عُفَيْرٍ عَرِيفَ بْنَ سَرِيعٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي فَقَالَ يَتِيمٌ كَانَ فِي حَجْرِي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِجَارِيَةٍ ثُمَّ مَاتَ وَأَنَا وَارِثُهُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَأُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ وَجَدَ صَاحِبَهُ قَدْ أَوْقَفَهُ يَبِيعُهُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنْهُ وَقَالَ إِذَا تَصَدَّقْتَ بِصَدَقَةٍ فَأَمْضِهَا

ایک آدمی نے حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میرا ایک یتیم بھتیجا میری پرورش میں تھا میں نے اسے ایک باندی صدقے میں دی تھی اب وہ مر گیا اور اس کا وارث بھی میں ہی ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ نے کسی کو فی سبیل اللہ ایک گھوڑا سواری کے لئے دے دیا تھوڑے ہی عرصے بعد انہوں نے دیکھا کہ وہ آدمی اسے کھڑا فروخت کر رہاہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارادہ ہوا کہ اسے خرید لیں چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایساکرنے سے منع کردیا اور فرمایا جب تم کوئی چیز صدقہ کردو تو اس صدقے کو برقرار رکھا کرو ۔

یہ حدیث شیئر کریں