حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ أَرَادَ فُلَانٌ أَنْ يُدْعَى جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ قَدْرِ سَبْعِينَ عَامًا أَوْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا قَالَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
مجاہدر حمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے ایک نے ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ آئندہ اسے " جنادہ بن ابی امیہ کہہ کر پکاراجائے (حالانکہ ابوامیہ اس کے باپ کا نام نہ تھا) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا حالانکہ جنت کی خوشبو تو ستر سال کی مسافت سے آتی ہے۔ اور فرمایا جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہئے۔
