حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْنَاكُمْ مِمَّا عِنْدَنَا وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ قَالُوا فَإِنَّا نَصْبِرُ فَلَا نَسْأَلُ شَيْئًا
حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے قیامت کے دن فقراء مہاجرین مالداروں سے چالیس سال قبل جنت میں داخل ہوں گے حضرت عبداللہ فرماتے تھے اگر تم چاہتے ہو تو ہم اپنے پاس سے تمہیں کچھ دے دیتے ہیں اور اگر تم چاہتے ہو تو بادشاہ سے تمہارامعاملہ ذکر کر دیتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ ہم صبر کریں گے اور کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے۔
