مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2060

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ شُفَيٍّ الْأَصْبَحِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كِتَابَانِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ قَالَ قُلْنَا لَا إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي يَسَارِهِ هَذَا كِتَابُ أَهْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلِأَيِّ شَيْءٍ إِذَنْ نَعْمَلُ إِنْ كَانَ هَذَا أَمْرًا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ لَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا ثُمَّ قَالَ فَرَغَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْعِبَادِ ثُمَّ قَالَ بِالْيُمْنَى فَنَبَذَ بِهَا فَقَالَ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَنَبَذَ بِالْيُسْرَى فَقَالَ فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں دو کتابیں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ دونوں کتابیں کیسی ہیں ؟ ہم نے عرض کیا نہیں ہاں اگر آپ یا رسول اللہ ہمیں بتادیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ والی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ اللہ رب العلمین کی کتاب ہے جس میں اہل جنت ان کے آباؤ اجداد اور ان کے قبائل کے نام لکھے ہوئے ہیں اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس میں آخری آدمی تک سب کے نام آ گئے ہیں ۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! جب اس کام سے فراغت ہوچکی تو پھر ہم عمل کس مقصد کے لئے کریں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا درستگی پر رہو اور قرب اختیارکو کیونکہ جنتی کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال پر ہی ہو گاگو کہ وہ کوئی سے اعمال کرتا رہے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمیوں والے اعمال پر ہو گا گوکہ وہ کیسے ہی اعمال کرتا رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس کی مٹھی بنائی اور فرمایا تمہارا رب بندوں کی تقدیر لکھ کر فارغ ہوچکا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے پھونک ماری اور فرمایا ایک فریق جنت میں ہوگا اس کے بعدبائیں ہاتھ پر پھونک کر فرمایا اور ایک فریق جہنم میں ہوگا۔

یہ حدیث شیئر کریں