مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2039

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ يَنْصَبُونَ فِي الْعِبَادَةِ مِنْ أَصْحَابِهِ نَصَبًا شَدِيدًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ ضَرَاوَةُ الْإِسْلَامِ وَشِرَّتُهُ وَلِكُلِّ ضَرَاوَةٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فَلِأُمٍّ مَا هُوَ وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى مَعَاصِي اللَّهِ فَذَلِكَ الْهَالِكُ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کا تذکرہ کیا جو عبادت میں خوب محنت کیا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اسلام کا جھاگ ہے اور ہر جھاگ کی تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا انقطاع ہوجاتا ہے جس تیزی کا اختتام اور انقطاع میانہ روی اور سنت پر ہو تو مقصد پورا ہو گیا اور جس کا اختتام معاصی اور گناہوں کی طرف ہو تو وہ شخص ہلاک ہو گیا۔

یہ حدیث شیئر کریں