مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2012

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

وَقَالَ أَلَا إِنَّ مَوْعِدَكُمْ حَوْضِي عَرْضُهُ وَطُولُهُ وَاحِدٌ وَهُوَ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَمَكَّةَ وَهُوَ مَسِيرَةُ شَهْرٍ فِيهِ مِثْلُ النُّجُومِ أَبَارِيقُ شَرَابُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ الْفِضَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ مَا سَمِعْتُ فِي الْحَوْضِ حَدِيثًا أَثْبَتَ مِنْ هَذَا فَصَدَّقَ بِهِ وَأَخَذَ الصَّحِيفَةَ فَحَبَسَهَا عِنْدَهُ

اور فرمایا یاد رکھو تمہارے وعدے کی جگہ میرا حوض ہے جس کی چوڑائی اور لمبائی ایک جیسی ہے یعنی ایلہ سے لے کرمکہ مکرمہ تک جوتقریباً ایک ماہ مسافت بنتی ہے اس کے آبخورے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے اس کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہوگا جو اس کا گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔ عبیداللہ بن زیاد یہ حدیث سن کر کہنے لگا کہ حوض کوثر کے متعلق میں نے اس سے زیادہ مضبوط حدیث اب تک نہیں سنی چنانچہ وہ اس کی تصدیق کرنے لگا اور وہ صحیفہ لے کر اپنے پاس رکھ لیا۔

یہ حدیث شیئر کریں