مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 2004

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ ذَلِكَ قَالَ إِذَا مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ يُونُسُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ يَصِفُ ذَاكَ قَالَ قُلْتُ مَا أَصْنَعُ عِنْدَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ وَعَلَيْكَ بِخَاصَّتِكَ وَإِيَّاكَ وَعَوَامَّهُمْ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تمہارا اس وقت کیا بنے گا جب تم بیکار اور کم تر لوگوں میں رہ جاؤ گے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب وعدوں اور امانتوں میں بگاڑ پیدا ہوجائے اور لوگ اس طرح ہو جائیں (راوی نے تشبیک کر کے دکھائی ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس وقت میرے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا اللہ سے ڈرنا نیکی کے کام اختیار کرنا برائی کے کاموں سے بچنا اور خواص کے ساتھ میل جول رکھنا عوام سے اپنے آپ کو بچانا۔

یہ حدیث شیئر کریں