مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1893

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ قَالَ حَسَنٌ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْحَجَرِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ فَقَالَ رَجُلٌ أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی نے حجر اسود کے استلام کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا استلام اور تقبیل کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ آدمی کہنے لگایہ بتائیے اگر رش ہو تو کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا " یہ بتائیے کہ میں یمن میں رکھتا ہوں میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا استلام اور تقبیل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں