مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1862

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ تَعَالَى بِمَا هُوَ أَهْلُهُ فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمَهُ وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور مجھ سے پہلے جو نبی بھی آئے انہوں نے اپنی امت کو دجال سے ضرور ڈرایاحتیٰ کے حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے میں تمہارے سامنے اس کی ایک ایسی علامت بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی اور وہ یہ کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہو سکتا۔

یہ حدیث شیئر کریں