مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1849

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ قَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنْ الْمُنَافِقِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا کر ربناولک الحمد کہنے کے بعد ایک مرتبہ یہ بدعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ فلاں پر لعنت نازل فرما اور چند منافقین کا نام لیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جائے یا انہیں سزادے کہ یہ ظالم ہیں ۔

یہ حدیث شیئر کریں