مسند احمد ۔ جلد سوم ۔ حدیث 1744

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَقْبِضُ الْوَرِقَ مِنْ الدَّنَانِيرِ وَالدَّنَانِيرَ مِنْ الْوَرِقِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَقْبِضُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ فَقَالَ لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں جنت البقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا اگر دینار کے بدلے بیچتا تو میں خریدار سے درہم لے لیتا اور دراہم کے بدلے بیچتا تو اس سے دینار لے لیتا ایک دن میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! ٹھہریئے میں آپ سے یہ مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں اور اس کے بدلے میں یہ اور اس کے بدلے میں وہ لے لیتا ہوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اسی دن بھاؤ کے بدلے ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن تم اس وقت تک اپنے ساتھی سے جدا نہ ہوجب تک تمہارے اور اس کے درمیان بیع کا کوئی معاملہ باقی ہو۔

یہ حدیث شیئر کریں